Trump's visit to China casts a deep shadow over the Iran war, with important diplomatic decisions likely in Beijing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ سے چین کا تین روزہ سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں، جہاں تجارت اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی دونوں طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا اہم محور بننے کی توقع ہے۔
13 سے 15 مئی تک جاری رہنے والا یہ دورہ تقریباً نو برس بعد کسی موجودہ امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہوگا۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ ٹیرف تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کے باعث تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے، جبکہ مختلف اقتصادی اور سفارتی تقریبات میں بھی شرکت متوقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دورے کا ایک بڑا مقصد ایران بحران کے حوالے سے چین کے مؤثر کردار پر بات چیت کرنا بھی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے دورے کو غیر معمولی سفارتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ بیجنگ میں مزید معاشی معاہدوں اور تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو کریں گے۔
اس دورے میں امریکی کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد بھی شریک ہوگی۔ ٹیسلا کے ایلون مسک، ایپل کے ٹم کک، بلیک راک کے لیری فنک اور بوئنگ سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے نمائندے وفد کا حصہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ابتدائی طور پر یہ دورہ رواں سال مارچ یا اپریل میں متوقع تھا، تاہم ایران جنگ کے باعث اسے مؤخر کردیا گیا۔ اس دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال امریکا چین تعلقات میں ایک اہم سفارتی عنصر بن چکی ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی خود کو ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل کیلئے مختلف تجاویز کی حمایت کی ہے۔
گزشتہ ہفتے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ چین کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس دورے میں ایران بحران، علاقائی صورتحال اور امریکا چین رابطوں کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی کہ چین ایران کو واضح پیغام دے گا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی سطح پر اس کی تنہائی میں اضافہ کر سکتی ہے۔




