Trump's sudden U-turn, Project Freedom halted over Gulf opposition
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) این بی سی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے پروجیکٹ فریڈم کو اچانک عارضی طور پر روک دیا، جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے سعودی عرب سمیت اہم خلیجی اتحادیوں کا دباؤ کارفرما تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اتوار کو اچانک اس آپریشن کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا۔ تاہم اس اعلان پر سعودی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور امریکہ کو اپنی فضائی حدود اور پرنس سلطان ایئربیس کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان رابطہ بھی ہوا، مگر معاملہ فوری طور پر حل نہ ہو سکا، جس کے بعد واشنگٹن نے مشن عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے خلیجی ممالک کا تعاون ناگزیر ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے باعث پروجیکٹ فریڈم کو مختصر مدت کے لیے روکا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھی گئی اور امریکی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث گزشتہ دو ماہ کے دوران عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم واشنگٹن اب بھی تنازع کے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی غیر ملکی فوجی نقل و حرکت کو ایرانی افواج کی منظوری درکار ہوگی۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ امریکہ کی نئی امن تجویز پاکستان کے ذریعے موصول ہوئی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن امریکہ کو غیر حقیقت پسندانہ مطالبات ترک کرنا ہوں گے۔





