Terrible explosion in coal mine in China, 82 workers killed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین کے شمالی صوبے شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 82 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد مزدوروں کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق دھماکا جمعے کی شام لیوشینیو کوئلہ کان میں پیش آیا۔ حادثے کے وقت کان کے اندر 247 مزدور موجود تھے، جن میں سے بیشتر کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر چند ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 تک پہنچ گئی، جبکہ 9 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کان میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ بعض مزدور زیرِ زمین پھنس گئے تھے اور کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور حادثے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ صنعتی اور ورک پلیس سیفٹی سے متعلق حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے حادثات سے بچا جا سکے۔
شنہوا کے مطابق دھماکے سے متعلق کمپنی کے ایک ذمہ دار اہلکار کو قانونی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
شانشی صوبہ چین کی کوئلہ کان کنی کی صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں حفاظتی اقدامات بہتر ہوئے ہیں، تاہم ناقص سیفٹی نظام کے باعث کان کنی کے حادثات اب بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔




