Iran-US tensions, alarm bells for Dubai's economy and tourism
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز بحران کے باعث دبئی کی سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری کو بڑا دھچکا پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ دبئی میں ہوٹلوں کی بکنگ اور رہائشی شرح غیر معمولی حد تک گر سکتی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق موڈیز اینالیٹکس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران دبئی کے ہوٹلوں کی اوسط آکوپینسی صرف 10 فیصد تک گر سکتی ہے، جبکہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل یہ شرح تقریباً 80 فیصد تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی، فضائی حملوں کے خطرات اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ نے خلیجی ریاستوں کی معیشت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں، تاہم سب سے زیادہ دباؤ دبئی کے سیاحتی شعبے پر پڑ رہا ہے، جو گزشتہ برسوں میں متحدہ عرب امارات کی نان آئل معیشت کا اہم ستون بن چکا تھا۔
موڈیز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے آغاز کے بعد سیاحتی سرگرمیاں تقریباً منجمد ہو چکی ہیں، جبکہ متعدد بین الاقوامی پروازیں معطل یا محدود ہونے سے ہوٹل انڈسٹری، ریسٹورنٹس اور تفریحی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو ہاسپیٹلٹی سیکٹر کی مؤثر بندش قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی حملوں نے متحدہ عرب امارات کے اہم انفراسٹرکچر، ایئرپورٹس اور دبئی کی مشہور عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں برج خلیفہ ہوٹل کمپلیکس کا حوالہ بھی دیا گیا۔ ان واقعات کے بعد غیر ملکی سیاحوں اور کاروباری شخصیات کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ادھر عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی برقرار ہے، جبکہ سرمایہ کار خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی یا سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خلیجی معیشتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔




