Trump announces the halting of $4 billion in aid to Israel; fears arise of a major gap in the defense budget.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد بند کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی دفاعی اور مالیاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پہلے سے طے شدہ اسلحے کے معاہدوں کی ادائیگی اور جنگ کے دوران استعمال ہونے والے فوجی ذخائر کی دوبارہ تکمیل کیسے ممکن بنائی جائے گی۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی امداد کا حجم سالانہ 4 ارب ڈالر بتایا اور کہا کہ انہوں نے کئی ماہ قبل وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ اسے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

 ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب اسرائیل کو ادائیگی نہیں کرے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر اس کی مدد جاری رکھے گا اور اسلحہ فروخت کرتا رہے گا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کے مطابق اسرائیلی وزارتِ خزانہ کو اس منصوبے کا علم ٹرمپ کے اعلان کے وقت ہوا۔ دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے کان نے ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فیصلے نے اسرائیلی حکام کو حیران کر دیا ہے۔

 ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو ابھی تک باضابطہ فیصلہ موصول نہیں ہوا اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

کان کے اقتصادی مبصر شاؤل ایمسٹرڈمسکی نے اندازہ لگایا کہ اگر امداد جنوری سے بند ہوئی تو اسرائیلی دفاعی بجٹ میں سالانہ 12 ارب شیکل، یعنی تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔

 ان کے مطابق حکومت اس خسارے کو ٹیکس بڑھا کر، اخراجات کم کرکے یا معاشی ترقی کے ذریعے پورا کر سکتی ہے، تاہم ٹیکسوں میں اضافہ زیادہ ممکنہ راستہ دکھائی دیتا ہے۔

اسرائیلی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ پہلے سے طے شدہ لڑاکا طیاروں کے معاہدوں کی ادائیگی کہاں سے کی جائے گی اور رقم کس کرنسی میں ادا کرنا ہوگی۔

 20 اکتوبر کو اسرائیلی وزارتِ دفاع کا ایک وفد مستقبل کی خریداری پر بات چیت کے لیے امریکی ریاست الاباما بھی گیا تھا۔

2016 میں طے پانے والے دس سالہ معاہدے کے تحت امریکا نے 2028 تک اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دونوں ملک مئی سے اس کے بعد کے انتظامات پر مذاکرات بھی کر رہے تھے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں فضائیہ نے اتنے گھنٹے پروازیں کیں جتنی عام حالات میں نو برس میں ہوتی ہیں۔ فوج نے تین دہائیوں کے دوران استعمال ہونے والے اسلحے کے برابر گولہ بارود بھی تین سال میں استعمال کیا۔

 امریکی امداد ختم ہونے سے ان ذخائر کی دوبارہ فراہمی اور پہلے سے طے شدہ خریداریوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔