The sea is open, the front is hot US blockade remains, agreement is close
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق طے میں کشیدگی کم ہونے کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، تاہم امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ایک یا دو دن میں طے پا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز اب عالمی تجارت کے لیے بحال ہو چکی ہے، لیکن ایران سے متعلق امریکی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مذاکرات مکمل نتیجے تک نہیں پہنچتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور پیش رفت تیزی سے ہو رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اعلان کیا کہ لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران تمام تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم فوجی نقل و حرکت پر پابندی برقرار رہے گی۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ حالات سے مشروط ہے اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ادھر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ لچک دکھائیں تاکہ جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں 80 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے اور اب چند اہم فیصلے باقی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ زیر غور ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی کے بدلے مالی سہولتوں کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم بعض اہم نکات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی بحالی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو مزید مضبوط کرے گا۔




