The real problem in Pakistan cricket is development, there has been no improvement since 2009: Aqib Javed-PCB
لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کہا ہے کہ بابر اعظم اور فخر زمان انجری کے باعث بنگلا دیش سیریز کے لیے دستیاب نہیں ہیں، جبکہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں گی کہ ورلڈ کپ کے فوراً بعد دونوں کھلاڑی کیسے انجری کا شکار ہوئے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا دونوں کھلاڑی ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے تھے یا بعد میں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ سے ٹیم کو بہت امیدیں تھیں تاہم کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف ریکارڈ 8-0 ضرور ہے لیکن اگر اس میچ کو الگ کر دیا جائے تو ٹیم صرف ایک میچ ہاری ہے جبکہ ایک مقابلہ بارش کی نذر ہوگیا۔ ان کے مطابق سیمی فائنل تک نہ پہنچنے پر ہر بار بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں، جو درست رویہ نہیں۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا مکمل فٹ نہیں ہیں، اس لیے انہیں سیریز میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش کے خلاف سیریز کے لیے پہلے ہی نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پلیئنگ الیون کا فیصلہ کوچ اور کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے اور سلیکشن کمیٹی اس میں مداخلت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق ہر اسٹیک ہولڈر کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں سب سے زیادہ تبدیلیاں ہو چکی ہیں لیکن اصل مسئلہ ڈویلپمنٹ کا ہے، جو 2009 کے بعد مطلوبہ سطح پر نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے رکن سرفراز احمد نے بتایا کہ ٹیم میں مستقبل کے لیے کئی وکٹ کیپرز پائپ لائن میں موجود ہیں جن میں حسیب اللہ، روحیل نذیر اور غازی غوری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غازی غوری حالیہ فارم کے باعث ایک اچھا آپشن ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ شامل حسین کی ڈومیسٹک کارکردگی بھی متاثر کن رہی ہے۔
اس موقع پر مصباح الحق نے کہا کہ سلیکشن میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان ٹیم کو کس قسم کے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتانی میں غلطیاں ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ کھیل کا حصہ ہیں، تاہم ہر موقع پر ٹیم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔





