The government increased the price of petrol by Rs 5.44 and diesel by Rs 31.05 per liter, OGRA will now set daily prices

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی سے 20 جولائی تک، یعنی آئندہ تین روز کے لیے ہوگا۔

حکومتی فیصلے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حالیہ اضافہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی پریمیم میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اب قیمتیں ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کا فوری اثر مقامی مارکیٹ میں منتقل کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے۔ اوگرا نہ صرف نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا بلکہ ان عوامل کی تفصیلات بھی شائع کرے گا جن کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، تاکہ نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 105 روپے فی لیٹر مختلف ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں وصول کر رہی ہے، جن میں کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن شامل ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تنظیم آئندہ ہفتے احتجاجی لائحہ عمل پر غور کرے گی۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے پٹرول پمپ مالکان اور صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔