The decision to further strengthen political and economic cooperation between North Korea and China
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور چین کے صدر شی جن پنگ نے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا سات سال بعد پہلا سرکاری دورہ ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کو بڑھانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
کے سی این اے کے مطابق کم جونگ ان نے چین کی ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا، جس کے تحت بیجنگ تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے
چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے پیانگ یانگ میں کورین جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے چینی فوجیوں کی یادگار کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے ایک اہم سیاسی تربیتی ادارے کے احاطے میں مشترکہ طور پر ایک درخت بھی لگایا، جسے دونوں ممالک کی ہمیشہ بڑھتی دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔
دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق چین اور شمالی کوریا کے سرکاری بیانات میں توجہ کے نکات مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور ماہرین کے مطابق اس دورے میں تجارت اور سیاحت کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر ژو کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ظاہری قربت کے باوجود عملی سطح پر اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔
دورے کے دوران شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان نے ایک مشترکہ ثقافتی پروگرام میں بھی شرکت کی، جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور ان کی اہلیہ ری سول جو بھی موجود تھیں۔ تقریب میں دونوں ممالک کے گانوں اور ثقافتی پرفارمنسز کو دوطرفہ دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔
کم جونگ ان نے بعد ازاں شی جن پنگ کے اعزاز میں ضیافت دی، جہاں چینی صدر نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔




