اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسرائیل کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ عرب جماعتوں کے گرد گھومنے لگا ہے، جہاں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی
ابتدائی نتائج کے مطابق عرب جماعتیں پارلیمان میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں، جس کے باعث وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور اپوزیشن دونوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
تقریباً 93 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کو 48 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے۔
عرب جماعتوں کے مختلف انتخابی دھڑوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد عرب اسرائیلی رہنماؤں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ نیتن یاہو کے حامی حلقوں کی جانب سے عرب جماعتوں کے خلاف قطر سے مبینہ مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ان الزامات کی بنیاد پر پوری عرب برادری کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
عرب جماعت رام کے سربراہ منصور عباس پر قطر سے فنڈنگ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عباس نے الزامات مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ سپریم کورٹ کے جسٹس نوعم سولبرگ نے بھی شن بیٹ سے معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے ان الزامات کو سیاسی زلزلہ قرار دیا، جبکہ جوائنٹ لسٹ نے انہیں اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے ساتھ تعاون کی مخالفت کی ہے۔ نیتن یاہو کی جانب سے عرب جماعتوں کے ممکنہ حکومتی کردار پر تنقید کے بعد آئزن کوٹ نے خبردار کیا کہ اپوزیشن کے ووٹ عرب جماعتوں کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔
اپوزیشن رہنما یائیر گولان نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی فنڈنگ سے متعلق دعوؤں کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیا۔
