PTI's march towards Islamabad resumes, red zone gates restricted, demand for Imran Khan's release

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب بیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا دوسرا مرحلہ شروع کردیا، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانوں پر مشتمل حساس ریڈ زون میں داخلے کے راستے محدود کردیئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق شہر کی دیگر سڑکیں فی الحال آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔

پی ٹی آئی نے اتوار کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے مارچ کا آغاز کیا تھا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ رات کو کرک میں قیام کے بعد پیر کو دوبارہ روانہ ہوا۔

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی پالیسی پر اختلافات کے باعث کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ اسلام آباد صوبائی حکومت سے عسکریت پسندوں کے خلاف تعاون چاہتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی سکیورٹی آپریشنز سے متعلق سیاسی مشاورت کا مطالبہ کررہی ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں، عمران خان کے اہل خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دینا بنیادی مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر کسی معاملے کا بامعنی حل ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی کے اطلاعات سیکریٹری شیخ وقاص اکرم کے مطابق مارچ کا دوسرا مرحلہ کرک سے دوپہر 12 بجے شروع ہوا، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ، پشاور اور چارسدہ سے ہوتا ہوا 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر خیبر آباد پہنچے گا۔ مختلف اضلاع کے کارکن راستے میں قافلے کا حصہ بنیں گے۔ پارٹی نے تاحال پنجاب میں داخلے اور اسلام آباد پہنچنے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

کرک میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی آزادی کی جنگ جیتنا ہوگی اور نوجوانوں سمیت تمام پاکستانیوں کو ان کی حمایت میں باہر نکلنا چاہیے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ریڈ زون کے متعدد داخلی راستوں کو محدود کرکے صرف ایک یا دو راستے کھولے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات کے قریب کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔

ادھر وفاق اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر بھی اختلاف برقرار ہے۔ پی ٹی آئی نے ایسے اقدامات کو سیاسی دباؤ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔