Pakistan's tough stance at the UN, holding India responsible for instability in the region
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
بحث کا آغاز افغانستان کے اقوامِ متحدہ مشن کے قائم مقام ناظم الامور نصیر احمد فائق کے بیان کے بعد ہوا۔ ۔
فائق نے اپنے بیان میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، تاہم انہوں نے القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان یا دیگر شدت پسند گروہوں کا نام نہیں لیا۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان کا نام نہاد نمائندہ دراصل کسی کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ ذاتی ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کے بقول نیویارک میں موجود یہ نمائندہ زمینی حقائق سے کٹا ہوا ہے اور پاکستان کے حوالے سے صورتحال کو یکطرفہ انداز میں پیش کر رہا ہے۔
پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان سرزمین سے جنم لینے والے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور حقِ دفاع کے اصولوں کے مطابق ہیں۔
بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کے خلاف دشمنی اور افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنا بھارت کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں، خصوصاً ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، کی پشت پناہی کرتا رہا ہے اور پاکستان اس حوالے سے شواہد بھی پیش کر چکا ہے۔
اس سے قبل بھارت کے مستقل مندوب نے اپنے بیان میں سرحد پار تشدد کے باعث شہری ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فضائی حملوں کو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
پاکستانی مندوب نے بھارت پر زور دیا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے، کیونکہ پاکستان اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی تخریب کاری کو برداشت نہیں کرے گا۔





