پاک بھارت ٹاکرا: ہر شکست کے بعد نئی امید، مگر انجام وہی کیوں؟
Pakistan-India confrontation: New hope after every defeat, but why the same outcome?- Image Credit: ICC
تحریر: راشد زبیری
پاکستانی کرکٹ ایک بار پھر اپنے روایتی حریف کے خلاف شکست کے بعد کٹہرے میں کھڑی ہے بھارتی کرکٹ ٹیم کے مقابل وائٹ بال فارمیٹ میں حالیہ برسوں کی کارکردگی نہ صرف مایوس کن بلکہ نظامی کمزوریوں کی عکاس بھی ہے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی فائنل کی یادگار فتح کے بعد 16 میں سے 13 میچز میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ وقتی کامیابیوں کے پیچھے پائیدار منصوبہ بندی موجود نہیں تھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت کے خلاف مسلسل آٹھویں شکست اور مجموعی برتری واضح کرتی ہے کہ دباؤ کے میچز میں پاکستان کی حکمتِ عملی اور اعصابی مضبوطی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ کولمبو میں حالیہ مقابلے میں چند اوورز نے پورے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ٹیم کمبی نیشن، بولنگ روٹیشن اور حالات کے مطابق فیصلوں میں تسلسل کا فقدان ہے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سلیکشن، کپتانی اور کوچنگ کے فیصلے اکثر ردِعمل کی بنیاد پر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، نہ کہ طویل المدتی وژن کے تحت۔ نوجوان کھلاڑیوں کو واضح کردار دیے بغیر میدان میں اتارنا اور اہم مواقع پر تجربہ کار آپشنز سے گریز ٹیم کے توازن کو متاثر کرتا ہے سوال صرف ایک شکست کا نہیں، بلکہ اس تسلسل کا ہے جو ناکامی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اگر ڈومیسٹک اسٹرکچر، ڈیٹا اینالٹکس، فٹنس کلچر اور میرٹ پر مبنی سلیکشن کو فوری بنیادوں پر مضبوط نہ کیا گیا تو عالمی ایونٹس میں مقابلہ مزید مشکل ہوتا جائے گا پاکستان کرکٹ کو جذباتی بیانات نہیں، پیشہ ورانہ اصلاحات درکار ہیں ورنہ روایتی حریف کے خلاف یہ خلیج مزید وسیع ہوتی جائے گی۔



