Oil tankers begin arriving in Karachi after Iran's permission, supply partially restored
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز خبر کے مطابق ایران کی جانب سے پاکستانی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ تیل اور دیگر اشیاء سے لدے جہازوں کی آمد کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام آئل ٹینکر ایم ٹی شالیمار کراچی پورٹ پہنچ چکا ہے، جہاں اس سے خام تیل اتارا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایم ٹی ویانا ووڈ 57 ہزار ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ساتھ پورٹ قاسم کے مقام پر موجود ہے اور جلد برتھنگ کا منتظر ہے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا ہی کا ایک اور جہاز ایم ٹی خیرپور پہلے ہی پورٹ قاسم کے فوٹکو ٹرمینل پر 55 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول اتار چکا ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
ادھر پاناما رجسٹرڈ ٹینکر قیم سٹار بھی پورٹ قاسم پہنچنے والا ہے، جو ایتھیلین لے کر آ رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت بندرگاہوں کے بیرونی لنگر انداز مقامات پر موجود دیگر جہاز سویابین، کوئلہ اور کنٹینرائزڈ سامان بھی لے کر آئے ہیں، جبکہ کراچی پورٹ پر 13 جہاز مختلف اشیاء جیسے کینولا، راک فاسفیٹ اور سیمنٹ کی ہینڈلنگ میں مصروف ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا-اسرائیل اور ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کراچی پورٹ ٹرسٹ مجموعی طور پر 9 آئل ٹینکرز کو ہینڈل کر چکا ہے، جن میں 7 خام تیل اور 2 پیٹرول لے کر آئے۔




