New inflation storm State Bank raises interest rate to 11.5%, warns of further hike
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوزکی خبر کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد کر دیا ہے، جبکہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں، فریٹ چارجز اور انشورنس اخراجات بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کے اثرات مقامی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں نے غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ معاشی اشاریے توقعات کے مطابق رہے، تاہم آنے والے مہینوں میں عالمی حالات کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ مہنگائی آئندہ چند سہ ماہیوں میں ہدف سے اوپر رہ سکتی ہے، اسی لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مارچ 2026 میں مہنگائی 7.3 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معیشت نے 3.8 فیصد ترقی کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی معمولی سرپلس میں رہا۔
مرکزی بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 24 اپریل تک تقریباً 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جس میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی اور یوروبونڈ کے اجرا نے اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ پیش رفت کو بھی بیرونی مالی استحکام کیلئے مثبت قرار دیا گیا ہے۔
ایس بی پی کا کہنا ہے کہ توانائی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے ذریعے مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، اور امکان ہے کہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی ڈبل ڈیجٹ تک پہنچ جائے۔ تاہم بہتر زرعی پیداوار کچھ دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مرکزی بینک نے واضح کیا کہ پائیدار معاشی استحکام کیلئے مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔




