Israeli police plan to recruit religious and extremist officers for Al-Aqsa Mosque compound
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں خدمات انجام دینے کے لیے مذہبی یہودیوں اور دائیں بازو کے کارکنوں کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس ایسے افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو یہودیوں کی مسجد اقصیٰ آمد کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق پولیس یونٹ کے نائب کمانڈر نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بھرتی کے پیغامات جاری کیے، جن میں بعض انتہا پسند گروپوں اور آبادکار تنظیموں سے منسلک فورمز بھی شامل تھے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق حالیہ عرصے میں مسجد اقصیٰ آنے والے یہودی زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس نے دورے کے اوقات میں بھی توسیع کی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ القدس گورنریٹ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور اسلامی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اصل مسئلہ بھرتی مہم نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ پر مؤثر انتظامی اختیار کو اسلامی اوقاف سے منتقل کر کے اسرائیلی اداروں کے ہاتھ میں دینے کی کوشش ہے۔
گورنریٹ نے زور دیا کہ اردن کی وزارت اوقاف سے وابستہ اسلامی اوقافِ القدس ہی مسجد اقصیٰ کے انتظام و نگرانی کی واحد مجاز اتھارٹی ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل گزشتہ کئی برسوں سے مشرقی یروشلم میں اپنی گرفت مضبوط کرنے اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔




