Iran's big announcement US military will not allow goods to pass through Hormuz
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اعلان کیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی اسلحہ اور فوجی سامان کو خطے میں موجود امریکی اڈوں تک منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایرانی مسلح افواج کا مکمل اسٹریٹجک کنٹرول قائم ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب سے امریکی ہتھیار آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکیں گے، جبکہ دیگر ممالک کے جہاز بھی ایرانی نگرانی میں ہی محفوظ راستہ حاصل کرسکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کررہی ہے۔ ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا حق حتمی اور ناقابلِ بحث ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اس بحری راستے سے گزرتی رہی ہے، اس لیے ایران کا یہ اقدام عالمی تجارت اور توانائی منڈیوں کیلئے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم امریکا کی ریڈ لائن اب بھی یہی ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
ادھر ایران نے جنگی نقصانات کے ازالے، امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی مطالبات کو پہلے ہی بے معنی قرار دے چکے ہیں۔
کویت میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد کی گرفتاری نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ بنادیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق گرفتار افراد دشمنانہ کارروائیوں کیلئے داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران جنگ کے باعث 2026 میں عالمی تیل سپلائی میں روزانہ تقریباً 39 لاکھ بیرل کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہوچکی ہے۔
اسی دوران چین کا ایک بڑا آئل ٹینکر، جس میں 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل موجود تھا، آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد یہ تیسرا بڑا چینی ٹینکر ہے جو اس راستے سے گزرا ہے۔




