Action in international waters, reaction against Israel is sharp, Turkey accuses Israel of ‘piracy’
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق غزہ کیلئے روانہ ہونے والے امدادی بیڑے کو اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کے دعوے پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جبکہ ترکیہ نے اس اقدام کو سمندری قزاقی قرار دے کر سخت ردعمل دیا ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق گلوبل صمود کے تحت بھیجے گئے امدادی جہازوں کو یونان کے قریب کریٹ کے علاقے میں اس وقت روک لیا گیا جب وہ غزہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ یہ بیڑا 12 اپریل کو بارسلونا سے روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد غزہ میں انسانی بحران کے پیش نظر امداد پہنچانا تھا۔
منتظمین نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے سینکڑوں میل دور کھلے سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جہازوں کو تحویل میں لیا بلکہ مسافروں کو بھی حراست میں لے لیا، جسے انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام انسانی اقدار، عالمی قانون اور سمندری آزادی کے اصولوں کے منافی ہے، اور اس حوالے سے متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ادھر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ بیڑے کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا، اور فوج نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسے کسی امدادی مشن کو روکا گیا ہو۔ گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کے ایک بیڑے کو روک کر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا، تاہم فلسطینی حکام اور عالمی ادارے کہتے ہیں کہ 20 لاکھ سے زائد آبادی کیلئے پہنچنے والی امداد اب بھی ناکافی ہے۔




