26 militants killed in operation on terrorist hideouts near Afghan border
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 26 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کارروائیاں انتہائی درست معلومات اور منصوبہ بندی کی بنیاد پر کی گئیں۔ ان کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود فتنہ الخوارج کے سرغناؤں اور حملوں کے منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 26 دہشت گرد مارے گئے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز پشاور کے حسن خیل علاقے میں دہشت گردوں نے ایک سیکیورٹی چوکی پر قبضے کی کوشش کی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا اور جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس حملے میں چھ اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوئے تھے، جبکہ تین اہلکاروں کے اغوا ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
گزشتہ ماہ بنوں میں ہونے والے خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کے بعد پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ اسلام آباد مسلسل افغان عبوری حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اپریل میں سنکیانگ کے شہر اُرمچی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہوا تھا، جبکہ ذرائع کے مطابق بیجنگ جلد ایک اور اجلاس کی میزبانی کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مذاکراتی پیش رفت کو برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قابلِ اعتماد اور عملی اقدامات پر ہے، جن میں یہ یقین دہانی بھی شامل ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی




