اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔
انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل گزشتہ تین برس کے دوران متعدد جنگوں اور سکیورٹی بحرانوں سے گزر چکا ہے، جبکہ حکومت کی کارکردگی اور قیادت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
انتخابی فہرستوں کے مطابق تقریباً 73 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ ایسے ووٹر شامل ہیں جو پہلی مرتبہ انتخابی عمل میں حصہ لیں گے۔ انتخابی مہم میں سکیورٹی، جنگوں کے نتائج، حکومت کی جواب دہی اور آئندہ سیاسی سمت اہم موضوعات رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں قومی سلامتی اور اسرائیل کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ تاہم، ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر انہیں ذمہ داری قبول کرنی چاہیے تھی۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کیں، جبکہ خطے کے دوسرے محاذوں پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
گادی آئزن کوٹ نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ 7 اکتوبر کے واقعات اور سکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کریں گے۔ یہ معاملہ ان ووٹرز کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جو حکومت سے جواب دہی چاہتے ہیں۔
انتخابات کے بعد حکومت سازی بھی ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں کسی ایک جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ عرب سیاسی جماعتوں کی نشستیں بھی ممکنہ طور پر حکومت سازی میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
انتخابی نتائج نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اور علاقائی تعلقات کی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
