اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پیراگوئے میں بڑے ڈیجیٹل بینک کے مالی بحران نے سیاسی ہلچل مچادی، جہاں پارلیمان نے تقریباً 30 لاکھ صارفین کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کے معاملے پر صدر سانتیاگو پینا کو عہدے سے برطرف کردیا، جبکہ سابق صدر کو اعتماد کی خلاف ورزی کے شبہے میں گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
جمعے کو سینیٹ کے تمام 44 حاضر ارکان نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن غیر حاضر تھا۔
اس فیصلے کے بعد نائب صدر پیڈرو الیانا نے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ وہ اگست 2028 میں موجودہ مدت ختم ہونے تک عہدہ سنبھالیں گے۔
پینا نے مواخذے کی کارروائی سے ایک روز قبل استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم سینیٹ نے کارروائی جاری رکھی۔ پیراگوئے کے آئین کے تحت سابق منتخب صدور تاحیات سینیٹر بنتے ہیں اور انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
مواخذے کے ذریعے برطرفی نے پینا کو یہ حیثیت حاصل کرنے سے روک دیا، جس کے بعد ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی راہ کھل گئی۔
پینا کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دفاع کی تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ صدر نے 72 گھنٹے کی مزید مہلت مانگی تھی، تاہم سینیٹرز نے 39 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے درخواست مسترد کردی۔
ان کے وکلا نے سپریم کورٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے رجوع کرنے کا حق بھی محفوظ رکھا ہے۔
بحران اس وقت شدت اختیار کرگیا جب مرکزی بینک نے منگل کو یونو بینک کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے کم از کم مالیاتی استحکام کی شرائط کی خلاف ورزی اور بینک کی مالی حالت پر خدشات ظاہر کیے۔
اس اقدام سے تقریباً 30 لاکھ صارفین کے اکاؤنٹس اور بینک کارڈز منجمد ہوگئے۔
پینا پر الزام تھا کہ انہوں نے سابقہ کاروباری روابط کے باعث مفادات کے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا کی، سرکاری رقوم بینک میں منتقل کرانے کے لیے سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے میں ناکام رہے۔
وہ اس بینک کی مالک کمپنی گروپو واسکیز میں حصص رکھتے تھے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنے حصص فروخت کردیے تھے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یونو بینک میں 800 ملین ڈالر سے زائد سرکاری رقوم جمع تھیں، جن میں ریاستی پنشن فنڈ کے تقریباً 355 ملین ڈالر بھی شامل تھے۔ پینا نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد توڑنا ان کا مقصد کبھی نہیں تھا۔
بینک کے خاتمے کے خلاف دارالحکومت اسونسیون سمیت مختلف شہروں میں مسلسل مظاہرے ہوئے۔
پولیس نے جمعرات کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا۔
حکام نے متاثرہ اہل صارفین کو ابتدائی ادائیگیاں شروع کردی ہیں، جن کے تحت بعض افراد کو تقریباً 1,600 ڈالر تک ملیں گے۔
مرکزی بینک کے مطابق ڈپازٹ گارنٹی اسکیم کے تحت فی صارف تقریباً 37 ہزار ڈالر تک کے ڈپازٹس محفوظ ہیں۔
اسکینڈل کے سلسلے میں تین فوجداری تحقیقات شروع کی گئی ہیں اور 27 افراد، جن میں بینک کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر میگوئل واسکیز اور متعدد عہدیدار شامل ہیں، پر مالی جرائم کے شبہے میں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سابق مرکزی بینک سربراہ کارلوس کاروالو کے خلاف بھی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔ نئے صدر الیانا کو بھی اسکینڈل سے متعلق تحقیقات کا سامنا ہے، تاہم ان کے مواخذے کی اپوزیشن کی کوشش روک دی گئی۔
