New diplomatic effort to end the war in Ukraine Melania Trump has sent letters to Putin and Zelenskyy.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے یوکرین میں عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں روس اور یوکرین کے حکام کی ایک غیر معمولی ملاقات کی میزبانی کی ہے۔

 یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان جاری جنگ کے دوران محدود تعاون کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

جمعرات کو ہونے والی اس ملاقات کا مقصد یوکرین کے جنگ زدہ شہر اولیشکی میں قائم ہونے والی مقامی سطح کی چھ روزہ جنگ بندی کو آگے بڑھانا تھا۔ میلانیا ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے روس اور یوکرین دونوں نے برقرار رکھا۔

 ان کے مطابق یہ فروری 2022 میں روسی حملے کے آغاز کے بعد اب تک کا طویل ترین جنگ بندی وقفہ تھا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ اب اولیشکی میں دکھائی گئی ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے معصوم شہریوں کی تکالیف کے مشترکہ احساس کی بنیاد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین مل کر عارضی جنگ بندی سے زیادہ پائیدار حل تشکیل دے سکتے ہیں۔

امریکی خاتونِ اول نے بتایا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے لیے ذاتی خطوط بھی نمائندوں کے ذریعے بھجوا رہی ہیں۔

 انہوں نے اولیشکی کی جنگ بندی کو تاریکی کی دنیا میں امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دونوں صدور کا تعاون خطے میں امن کی پیش رفت کے لیے ایک اہم مثال ہے۔

اس جنگ بندی کے دوران علاقے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے اور شہریوں کو یوکرین یا روس منتقل ہونے کا موقع ملا تھا۔ روسی صدارتی ایلچی کریل دمترییف نے پیوٹن کی جانب سے میلانیا ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور جنگ بندی کے لیے ان کے انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کو سراہا۔

 انہوں نے جنگ کے باعث خاندانوں سے جدا ہونے والے بچوں کو دوبارہ ملانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں یوکرین کے مطابق روس لے گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں روس کی انسانی حقوق کی محتسب یانا لانتراتوا اور یوکرین کے ہم منصب دمترو لوبینٹس بھی دوبارہ ملے۔ دونوں نے اولیشکی میں جنگ بندی کے دوران شہریوں کے انخلا اور امداد کی فراہمی کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا تھا۔

 جنگ زدہ علاقے میں ان کی مشترکہ میڈیا بریفنگ بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی نمایاں مثال بنی تھی۔

صدر زیلنسکی نے بتایا کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ڈیڑھ گھنٹے تک تفصیلی گفتگو کی۔ یوکرینی صدر نے میلانیا ٹرمپ کو اولیشکی جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر ملک کا اعزاز آرڈر آف پرنسس اولگا، فرسٹ کلاس بھی دیا، جس کی دستاویز وائٹ ہاؤس میں دمترو لوبینٹس نے پیش کی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان حالیہ قربت نے یوکرین کے لیے امریکی حمایت کم ہونے کے خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔

 ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی امن کوششیں وقفے وقفے سے جاری رہیں اور رواں سال ایران جنگ نے بھی ان کی توجہ حاصل کیے رکھی۔