The anger of young people in Europe has reached Denmark, with strikes at 57 educational institutions and a demonstration in Copenhagen.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ڈنمارک میں حکومت کی جانب سے طلبہ کے تعلیمی الاؤنس میں کمی کے منصوبے کے خلاف بدھ کو ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ طلبہ نے مجوزہ کٹوتیوں کو تعلیم کے مواقع محدود کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکومت سے منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

 یہ احتجاج یورپ کے مختلف ممالک میں تعلیمی فنڈز میں کمی کے خلاف نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تحریک کا حصہ ہے۔

اب بہت ہو چکا کے نعرے کے تحت 11 ہائی اسکول اور یونیورسٹی طلبہ تنظیموں نے کوپن ہیگن کے سٹی ہال اسکوائر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ منتظمین کے مطابق ڈنمارک بھر کے 57 تعلیمی اداروں میں تقریباً 40 ہزار طلبہ نے ہڑتال میں حصہ لیا، جبکہ کوپن ہیگن میں مظاہرین کی تعداد 12 ہزار سے 13 ہزار کے درمیان رہی۔

طلبہ نے وعدے توڑے گئے کے نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایس یو بچاؤ اور کم معاونت، کم تعلیم یافتہ جیسے پیغامات درج تھے۔ ایس یو ڈنمارک کا طلبہ الاؤنس نظام ہے، جو 1970 سے طلبہ کو تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

مرکزِ بائیں بازو کی حکومت اس الاؤنس میں تبدیلیاں کرکے دفاعی اخراجات کے لیے وسائل فراہم کرنا چاہتی ہے۔ منصوبے کے تحت والدین کے ساتھ رہنے والے ان طلبہ کا الاؤنس ختم کیا جا سکتا ہے جن کے والدین کی مجموعی سالانہ آمدن 7 لاکھ ڈینش کرونر، یعنی تقریباً ایک لاکھ 4 ہزار 440 ڈالر سے زیادہ ہو۔

اس کے علاوہ جن طلبہ کے والدین کی سالانہ آمدن 4 لاکھ 19 ہزار 589 سے 7 لاکھ کرونر کے درمیان ہے، ان کے الاؤنس میں بھی بتدریج کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے تخمینے کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 14 ہزار طلبہ اپنے تعلیمی گرانٹس سے محروم ہو جائیں گے، جبکہ مزید 8 ہزار طلبہ کو پہلے کے مقابلے میں کم مالی معاونت ملے گی۔

طلبہ تنظیم کے صدر آسکر ٹونسبرگ ہوفمین نے کہا کہ الاؤنس کے نظام کو ختم یا محدود کرنے سے دنیا کے مضبوط ترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہونے والے ڈنمارک کے تعلیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق مالی معاونت میں کمی طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل بنا سکتی ہے۔

حکومت نے حالیہ فارغ التحصیل طلبہ کے بے روزگاری الاؤنس کے لیے بھی نئی شرط تجویز کی ہے۔ اس کے تحت گریجویشن کے بعد بے روزگاری الاؤنس صرف ان افراد کو ملے گا جنہوں نے اپنی تعلیم کے آخری 24 ماہ میں کم از کم 18 ماہ کام کیا ہو۔ اس تجویز پر بھی طلبہ اور نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔