اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ملک کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات ختم کرکے حکومت سازی کے لیے سمجھوتہ کریں اور ایک اور انتخابات سے بچنے کی کوشش کریں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اور وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کے بڑے حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش جاری ہے۔
ہرزوگ نے بدھ کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت شروع کی۔ ان ملاقاتوں کے بعد صدر کو فیصلہ کرنا ہے کہ نیتن یاہو یا گادی آئزن کوٹ میں سے کس رہنما کو پہلے حکومت بنانے کی دعوت دی جائے۔
120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، میں کسی بھی اتحاد کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت موجود نہیں۔ صدر ہرزوگ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقوں کو تخلیقی انداز میں کام کرنا ہوگا اور نیک نیتی کے ساتھ سمجھوتے کی کوشش کرنی چاہیے
ان کے مطابق کوئی بھی جماعت اپنے انتخابی وعدوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی توقع نہیں رکھ سکتی، جبکہ ایک اور انتخابی عمل ملک کے لیے مزید سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
اسرائیلی صدر نے عرب سیاسی جماعتوں کے خلاف نسل پرستانہ زبان استعمال کرنے کی بھی مذمت کی۔ انتخابات میں عرب جماعتوں کی کامیابی نے حکومت سازی کے لیے پارلیمانی اعداد و شمار میں ان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد عرب اقلیت پر مشتمل ہے۔
ہرزوگ نے کہا کہ انہیں عرب اقلیت کا بہت احترام ہے اور کسی بھی برادری کے خلاف نسل پرستانہ اظہار کی کوئی جگہ نہیں۔
ان کا بیان نیتن یاہو کے ان الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا جن میں انہوں نے عرب اکثریتی جماعتوں کی فہرستوں میں بے ضابطگیوں اور ان کے رہنماؤں کو قطر سے مالی رقوم ملنے کے دعوے کیے تھے۔
تاہم مرکزی انتخابی کمیٹی نے 9 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنز کے آڈٹ کے بعد کہا کہ اسے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو انتخابی نتائج کی شفافیت کو متاثر کر سکے۔
کمیٹی نے 15 ووٹوں کی حمایت اور دو مخالفت کے ساتھ نتائج کی منظوری دی، جبکہ 14 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
دوسری جانب امریکا میں ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نیتن یاہو کے مخالفین نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت میں ممکنہ کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے کہا کہ اسرائیل نیتن یاہو کو وزیراعظم برقرار رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کا اقتدار میں رہنا قومی سلامتی، جمہوریت اور اسرائیل کی عالمی ساکھ کے لیے خطرہ ہے۔
