اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ یورپ کے مختلف ممالک میں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث سویڈن سے بیلجیم تک درجنوں اسٹورز متاثر ہوئے۔
حملوں کے بعد متعدد دکانوں کو ٹھنڈی اور منجمد اشیا فروخت سے ہٹانا پڑیں، جبکہ بعض مقامات پر خوراک خراب ہونے سے بھاری مالی نقصان بھی ہوا۔
متاثرہ اداروں میں بیلجیم اور لکسمبرگ میں کام کرنے والی کولروئٹ، سویڈن کی آئی سی اے اور کوپ سمیت دیگر کاروبار شامل ہیں۔ فرنیچر کمپنی آئیکیا کا بیلجیم میں ایک اسٹور بھی متاثر ہوا۔
آئی سی اے کی فرنچائز سیلز مینیجر اینگلا انگوال کے مطابق حملہ رات تقریباً دو بجے ہوا، جس کے بعد بعض فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ کمپنی نے متاثرہ صورتحال کے باعث محدود تعداد میں اسٹورز کے آپریشنز متاثر ہونے کی تصدیق کی۔
بیلجیم میں کولروئٹ کے پانچ اسٹورز متاثر ہوئے، جبکہ آئرش ہول سیلر مسگریو کے 13 سپرو ویلی اسٹورز میں بھی مسئلہ سامنے آیا۔
کیریفور کے بیلجیم میں موجود 700 اسٹورز میں سے 15 متاثر ہوئے، جبکہ سویڈن میں کوپ کے تقریباً 800 اسٹورز میں سے سات دکانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ اسٹورز سے ٹھنڈی اور منجمد خوراک ہٹا دی گئی۔
بیلجیم کے ایک قصاب لوک ڈی لاٹ نے بتایا کہ ان کے ریفریجریٹرز کا درجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس سے تقریباً 15 ہزار یورو، یعنی 16 ہزار 800 ڈالر مالیت کا گوشت ضائع ہوا۔ انہوں نے واقعے کی پولیس کو اطلاع بھی دی۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سائبر اور ہائبرڈ خطرات سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے۔
تاہم ابھی تک کسی ہیکنگ گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ مختلف ممالک میں پیش آنے والے واقعات ایک دوسرے سے منسلک ہیں یا نہیں۔ روس نے یورپ میں تخریبی کارروائیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔
بیلجیم کے سائبر سکیورٹی مرکز کی ترجمان کترین ایگرز نے کہا کہ حملوں کے ذمہ داروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے سکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھائے جانے کے بڑھتے خدشات کا بھی ذکر کیا۔
ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس، جس کی ٹیکنالوجی بعض متاثرہ ریفریجریشن یونٹس میں استعمال ہوتی ہے، نے کہا کہ وہ مسئلے کے حل پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کی ٹیکنالوجی فرانس میں گزشتہ ماہ ہونے والے اسی نوعیت کے واقعے میں بھی زیرِ بحث آئی تھی۔
یورپی یونین کے زراعت کے کمشنر کرسٹوف ہینسن نے ان حملوں کو خوراک کی سپلائی چین میں خلل ڈالنے اور عوامی اعتماد کمزور کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔
سائبر سکیورٹی محقق ٹام ہیگل کے مطابق ایسے حملوں کے پیچھے مالی بھتہ خوری، سیاسی مقاصد یا ریاستی کارروائی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی مطالبہ سامنے نہ آنا تخریب کاری کے امکان کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
