اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں اتوار کو نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مارچ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی اور اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے دیگر رہنماؤں نے کی۔
نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں جمع ہونے والے مظاہرین نے انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے خلاف نعرے لگائے۔ راہول گاندھی کھلی گاڑی میں سوار ہو کر اجتماع میں پہنچے، جہاں شرکا نے ووٹ چور، گدی چھوڑ کے نعرے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن شہریوں کے ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق یہ احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہے۔
بھارت کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد جعلی، دوہرے اور فوت شدہ افراد کے نام حذف کرنا ہے، جبکہ اہل شہریوں کو فہرست میں دوبارہ نام شامل کرانے کا موقع بھی دیا جا رہا ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس اور اپوزیشن کی عدالتی دستاویزات کے مطابق اس عمل کے دوران 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ نام فہرستوں سے خارج کیے گئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں پر غیر متناسب انداز میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بی جے پی کا الزام ہے کہ غیر دستاویزی بنگلہ دیشی مسلمان شہریوں نے جعلی طور پر ووٹر فہرستوں میں اپنے نام درج کرائے۔
46 سالہ نندیتا نے بتایا کہ وہ 18 سال کی عمر سے ووٹ ڈال رہی ہیں، لیکن نظرثانی کے دوران ان کا نام بھی خارج کر دیا گیا۔ ان کے مطابق شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج جاری رکھنا چاہیے۔
بی جے پی کے وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کا سیاسی ڈراما قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار راشد کدوائی کے مطابق مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کانگریس کے لیے اہم پیش رفت ہے اور انتخابی ناکامیوں کے بعد راہول گاندھی کی سیاسی سرگرمیوں میں عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
