Thousands take to the streets against Netanyahu ahead of Israeli elections, demanding an investigation into October 7.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق اسرائیل میں عام انتخابات سے صرف تین روز قبل ہزاروں افراد نے تل ابیب میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے متعلق سکیورٹی ناکامیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں یرغمالیوں کے اہلِ خانہ، حکومت مخالف گروہوں اور اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ مظاہرہ اکتوبر کونسل نے منعقد کیا، جو ان افراد کے خاندانوں پر مشتمل تنظیم ہے جو حماس کی قیادت میں ہونے والے 7 اکتوبر کے حملے میں ہلاک یا یرغمال بنائے گئے تھے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ حملے کو روکنے میں ناکامی اور سکیورٹی اداروں کی کوتاہیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد سرکاری کمیشن قائم کیا جائے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق چار بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔ ان میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ شامل تھے، جنہیں نیتن یاہو کے اہم حریفوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اکتوبر کونسل نے مظاہرے سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انتخاب سے تین دن قبل وہ سچ سامنے لانے، جواب دہی یقینی بنانے اور سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے اپنی تین سالہ جدوجہد کے اہم مرحلے کا انعقاد کررہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے نے ہزاروں مظاہرین کو رابن اسکوائر سے یرغمالیوں کے اسکوائر کی جانب مارچ کرتے دیکھا۔ یہ مقام ماضی میں بھی غزہ میں قید افراد کی رہائی کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کا مرکز رہا ہے۔

 68 سالہ ہاداس فیورسٹین نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ چار برس سے ملک کی قیادت کرنے والوں نے انتہائی خراب کارکردگی دکھائی ہے اور اسرائیل پہلے کبھی ایسی صورتِ حال سے نہیں گزرا۔

سیاسی سروے شائع کرنے پر پابندی جمعے کی رات نافذ ہونے سے قبل جاری ہونے والے آخری جائزوں میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو 120 رکنی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دی۔ سرکاری نشریاتی ادارے کان کے ایک سروے کے مطابق آئزنکوٹ کے اتحاد کو 52 اور نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 نشستیں ملنے کا امکان تھا، جبکہ باقی نشستیں دیگر جماعتوں، جن میں عرب جماعتیں بھی شامل ہیں، کے حصے میں آسکتی تھیں۔

نیتن یاہو حکومت نے 7 اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن قائم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس کے بجائے حکومت نے ایسا سیاسی کمیشن تجویز کیا ہے جس کے ارکان حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے قانون ساز برابر تعداد میں مقرر کریں گے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے سیاست دانوں کے مقرر کردہ کمیشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرے سے پہلے اکتوبر کونسل نے پولیس کو حکومت کے حامی افراد کی جانب سے ممکنہ اشتعال انگیزی کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ پولیس نے ہفتے کی شام تل ابیب میں ایک عوامی شخصیت کی سکیورٹی ٹیم پر حملے کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے متاثرہ شخصیت کی شناخت سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے طور پر کی۔

نیتن یاہو نے جمعے کو اسرائیل کی بڑھتی عالمی تنہائی کے جواب میں متبادل ڈیجیٹل معیشت بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکا سے اربوں ڈالر کے اسلحے کے پیکیج ہمیشہ جاری نہیں رہیں گے۔ اپوزیشن رہنما آئزنکوٹ نے مجوزہ ڈیجیٹل کرنسی کو طنزیہ طور پر بی بی کوائن کہا۔ سابق وزیراعظم یائیر لاپید نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہوئے تو اسرائیل کو پابندیوں، امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے مسائل اور معاشی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔