اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے اور شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے لیے فلاحی پیکیج بہتر بنانے کی تجاویز پر مبنی سمری جلد تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، گورنر نے منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں ممکنہ اضافے، شہدا کے ورثا اور زخمی اہلکاروں کے لیے مالی معاونت سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں گورنر کے مشیر برائے داخلہ امور کفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ امجد علی خان اور پولیس کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
آئی جی پولیس نے اجلاس کو تنخواہوں میں اضافے سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی، جس کے بعد گورنر نے متعلقہ حکام کو جامع سمری تیار کرکے بلا تاخیر پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس معاملے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔
اجلاس میں 2025 کے اس معاوضہ پیکیج کا بھی جائزہ لیا گیا جو پولیس کے شہدا اور زخمی اہلکاروں کے لیے مختص ہے۔ اس پیکیج میں بہتری کے لیے متعدد سفارشات زیرِ غور آئیں، جن کا مقصد شہید اہلکاروں کے خاندانوں کو زیادہ مؤثر مالی اور سماجی مدد فراہم کرنا ہے۔
اہم تجاویز میں شہید اہلکاروں کے ورثا کو رہائشی پلاٹ دینے کے بجائے نقد مالی معاونت فراہم کرنا، شہدا کی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے لیے مدد دینا اور ان کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک انڈومنٹ فنڈ قائم کرنا شامل ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے آئی جی پولیس کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تنخواہوں میں اضافے اور فلاحی اقدامات سے متعلق سمری کو جلد حتمی شکل دی جائے اور مزید کارروائی کے لیے پیش کیا جائے۔
ان تجاویز پر عمل درآمد اور تنخواہوں میں اضافے کی حتمی منظوری کے بارے میں خبر میں کوئی حتمی فیصلہ یا شیڈول نہیں بتایا گیا۔ تاہم، گورنر کی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی مالی حالت بہتر بنانے اور شہدا و زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کی مدد کے لیے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
