New security plan after administrative changes in Khyber Pakhtunkhwa, joint strategy of the federation and the governor

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی پالیسیاں اسلام آباد میں بنیں گی، کابل، جلال آباد یا قندھار میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومت کی اولین ترجیح ہوگی اور پولیس سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

پیر کو گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنڈی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، انسدادِ دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی)، فوج، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو مکمل تعاون دیا جائے گا تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرسکیں۔

گورنر نے بتایا کہ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری سے پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے اقدامات کرنے کو کہا ہے۔ دورانِ ڈیوٹی جانیں دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کے معاوضے بڑھانے کا وعدہ بھی کیا۔ ان کے مطابق پولیس کو جدید ہتھیاروں اور ضروری سہولتوں سے لیس کیا جائے گا، جبکہ پہلے سیکیورٹی اور بعد میں ترقیاتی امور پر توجہ دی جائے گی۔

کنڈی نے سابق صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے اور صوبے کے مفادات وفاق کے سامنے مناسب طور پر پیش نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ بدانتظامی کے مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش ہوگی اور تین ماہ کے اندر نمایاں نتائج حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق اپیکس کمیٹی کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس میں پہلی مرتبہ انہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان واضح ہم آہنگی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو قیادت فراہم کرنا ہوگی اور سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئے گی اور آئندہ مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔

نقوی نے متاثرہ علاقوں کے لیے اضافی مالی وسائل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں ہر ایک روپے کے مقابلے میں متاثرہ اضلاع پر تین روپے خرچ کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے قبائلی عمائدین سے مشاورت، مقامی مسائل کی نشاندہی اور پولیس کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

وفاقی حکومت نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی اقدامات اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا۔ نئے انتظام کے تحت 12 اضلاع میں خصوصی انتظامی بندوبست کیا گیا ہے، جبکہ گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی ہے