Airstrike on gold mine in Sudan; 72 people reported killed.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے کے نتیجے میں 72 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سوڈانی تنظیم ایمرجنسی لائرز کے مطابق حملے میں بڑی تعداد میں کان کن اور وہاں موجود دیگر افراد نشانہ بنے، جبکہ واقعے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق عینی شاہدین اور حملے میں زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ ایک طیارے نے صبح تقریباً آٹھ بجے کان کے علاقے پر متعدد مرتبہ حملہ کیا۔ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ طیارے نے مجموعی طور پر پانچ بار بمباری کی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ اس وقت علاقے میں سونے کی تلاش اور کان کنی کے لیے ہزاروں افراد موجود تھے۔

ایمرجنسی لائرز نے حملے کا الزام مصری فضائیہ پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی سوڈانی علاقے میں کی گئی۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ مصر اور سوڈان کے درمیان واقع حلیب مثلث ایک عرصے سے متنازع علاقہ ہے، جہاں سرحدی حدود اور انتظامی کنٹرول پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس سے قبل جون میں بھی اسی نوعیت کے ایک حملے میں 23 افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ مصری فوج نے اس وقت غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کا مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ کارروائی مصر کی حدود میں کی گئی۔ تازہ واقعے پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

سوڈان اپریل 2023 سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق جنگ میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم درست تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔

ملک میں سونے کی غیر قانونی کان کنی اور اس کی تجارت بھی تنازعے کا اہم پہلو ہے۔ ماہرین اور امدادی ادارے خبردار کرتے رہے ہیں کہ جنگ زدہ علاقوں میں معدنی وسائل کی غیر شفاف تجارت، انسانی اسمگلنگ اور مسلح گروہوں کی مالی معاونت جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔