اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے راولپنڈی کے شہریوں، تاجروں اور طلبہ میں ایک بار پھر سڑکوں کی ممکنہ بندش کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔
ممکنہ احتجاج اور راستوں کی بندش کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کی متعدد جامعات نے آن لائن کلاسز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی، جو فیض آباد کے قریب واقع ہے، پیر کو آن لائن کلاسز کروا رہی ہے جبکہ کیمپس میں تدریس بحال کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق احتجاج کی صورت میں ہاسٹلز خالی کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاہم کئی روز کے لیے طلبہ کو ان کے گھروں تک پہنچانا بھی مشکل ہوگا، اس لیے آن لائن تعلیم کو زیادہ محفوظ راستہ سمجھا گیا ہے۔
تعلیمی اداروں کے ساتھ نجی اسکول بھی ممکنہ رکاوٹوں سے پریشان ہیں۔ مری روڈ پر ایک اسکول پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ ایجوکیشن اتھارٹی کی عمارت کی تیسری منزل بھی پولیس کے لیے مختص کی گئی ہے تاکہ اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں زیادہ متاثر نہ ہوں۔
راولپنڈی انجمن تاجران کے صدر شاہد غفور پراچہ نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج اور دھرنوں کے باعث تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے راولپنڈی اور اسلام آباد آنے والے تقریباً تمام راستے بند رہے اور اب خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد دوبارہ یہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کی مارکیٹیں صرف جڑواں شہروں ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور ملحقہ علاقوں کے خریداروں کو بھی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ راستے بند ہونے سے نہ خریدار بازار پہنچ سکیں گے اور نہ ہی مال بردار گاڑیاں آسانی سے سامان پہنچا سکیں گی۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق پی ٹی آئی مارچ سے نمٹنے کے لیے 43 ہزار 200 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں 30,700 اٹک، 10,600 راولپنڈی جبکہ 1,976 اہلکار جہلم، مری اور چکوال میں تعینات ہیں۔
پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے ٹیکسلا اور گردونواح میں پانچ سرکاری اسکول، ایک نجی اسکول اور ایک کالج خالی کرائے گئے ہیں۔ دوسری جانب واسا کے 22 واٹر ٹینکرز بھی پولیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکسلا بھیجے گئے تھے، جو واپس نہ آنے کے باعث راولپنڈی کے پانی کی فراہمی کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔
