اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)رائٹرز کی خبر کے مطابق فلپائن نے تائیوان کے قریب شمالی بٹانیز کے سمندری علاقے میں موجود چینی تحقیقی جہاز کو وہاں سے ہٹانے کے لیے اپنا سب سے بڑا بحری جہاز اور ایک طیارہ تعینات کردیا، جبکہ ایک چینی کوسٹ گارڈ جہاز بھی علاقے میں پہنچ گیا۔
فلپائن کوسٹ گارڈ کے ترجمان جے تارییلا کے مطابق کارروائی نے چینی جہاز کی مبینہ غیرمجاز سمندری سائنسی تحقیق کو متاثر کیا اور اسے اپنی موجودہ پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق 97 میٹر طویل بی آر پی ٹیریسا مگبنوا اور ایک طیارہ چینی جہاز جیا ہاے ہائ کی 7 کے خلاف کارروائی میں شامل تھے۔ فلپائن کا کہنا ہے کہ یہ جہاز 28 ستمبر سے اٹبیات جزیرے کے شمال مغرب میں تقریباً 37 ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجود تھا۔
فلپائن کے مطابق ٹیریسا مگبنوا چینی تحقیقی جہاز کے تقریباً 100 گز قریب پہنچا، جس کے بعد ایک سخت ڈھانچے والی ہوا بھرنے کے قابل کشتی بھی تعینات کی گئی۔ اس کشتی نے چینی جہاز کے گرد کئی چکر لگائے جبکہ فلپائنی اہلکاروں نے ریڈیو کے ذریعے اسے چیلنج کیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق چینی جہاز نے کارروائی کے دوران کئی مرتبہ اپنی سمت تبدیل کرکے فلپائنی کشتیوں سے بچنے کی کوشش کی۔
بعد ازاں ایک چینی کوسٹ گارڈ جہاز بھی موقع پر پہنچا اور اس نے جیا ہائی کی 7 کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ چینی جہاز نے فلپائن کے بحری جہاز کو ریڈیو کے ذریعے چیلنج بھی کیا۔
فلپائنی حکام نے چینی کوسٹ گارڈ کی مداخلت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیا ہائی کی7 نجی ملکیت کا جہاز ہے، جس کے باعث اس کے چینی حکومت سے ممکنہ روابط اور جمع کیے جانے والے ڈیٹا کے مقصد پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ جہاز بٹانیس اور آبنائے ہونوز کے قریب زیر سمندر کیبلز کے راستوں کے نزدیک موجود تھا، اس لیے اس کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی گئی۔
فلپائن کا کہنا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں جہاز اپنی سابقہ پوزیشن چھوڑ چکا ہے، جبکہ ٹریسیا میگبانوا اس کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ فلپائن کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر نکل جائے۔
جیا ہائی کی 7 وہی چینی پرچم بردار سروے جہاز ہے جس پر فلپائن پہلے اپنی پوزیشن کے بارے میں مبینہ جعلی شناخت کا استعمال کا الزام لگا چکا ہے۔
چینی سفارتخانے نے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
