PTI protests Imran Khan's claim of shifting his sisters Uzma and Noreen to an unknown location

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی مزید دو بہنوں، ڈاکٹر عظمٰی خان اور نورین نیاز ی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کے ایک روز بعد سامنے آئی، جنہیں لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے 30 روز کے لیے حراست میں لینے یا گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پیر کی صبح ایکس پر دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں کو ان کے بچوں اور علیمہ خان کے بیٹوں سمیت گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام افراد کو ایک بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل اویس یونس چوہدری نے بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نورین نیا زی اور عظمٰی خان کو پہلے گھروں تک محدود رکھا گیا تھا، تاہم پیر کی صبح انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، تاہم عظمٰی اور نورین کے حوالے سے انہیں گرفتاری کے احکامات موصول نہیں ہوئے، اس لیے وہ یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ دونوں کو بھی 30 روز کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی نے مبینہ گرفتاریوں کو اختیارات کا کھلا غلط استعمال، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

دوسری جانب عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی ایکس پر الزام عائد کیا کہ عظمٰی اور نورین کو اغوا کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اہلکار ان کی خالاؤں اور کزنز کے گھروں میں داخل ہوئے اور انہیں بغیر وضاحت گاڑیوں میں بٹھا کر لے گئے۔

قاسم خان نے کہا کہ گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز نے علیمہ خان اور محمد عامر نامی شخص کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لینے یا گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔

یہ کارروائیاں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے اعلان سے قبل سامنے آئی ہیں۔ پارٹی مارچ کو عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی تحریک قرار دے رہی ہے۔

ادھر ساہیوال میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ پارٹی کے مطابق بعض ارکان قومی اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے درجنوں کارکنوں کے خلاف ایم پی او کے آردرز بھی جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب حکومت اسلام آباد مارچ روکنے کا عندیہ دے چکی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ احتجاج کے دوران عوامی سڑکوں اور شاہراہوں کی بندش کے حوالے سے اپنی حدود واضح کرچکی ہے۔