Iman Mazari and her husband re-arrested hours after Supreme Court grants bail; court sends them on 14-day judicial remand.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں کو جمعرات کی رات اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اے ٹی سی جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تفتیشی افسر کی جانب سے دونوں کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر میں غیر قانونی اجتماع میں شرکت کا الزام موجود ہے، تاہم دونوں ملزمان سے کوئی ہتھیار منسوب نہیں کیا گیا، اس لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا قابل قبول معلوم نہیں ہوتی۔

عدالت نے دونوں کو یکم اکتوبر 2026 کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ چالان پیش ہونے تک ذاتی حاضری سے استثنیٰ دیا گیا جبکہ سینٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کو ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کی تھی۔ عدالت نے 24 جنوری 2026 کے ایڈیشنل سیشن جج، پیکا اور ماڈل کریمنل کورٹ اسلام آباد ویسٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں 2،2 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری کو سرینا ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اگلے روز دونوں کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ فیصلے میں پیکا کی دفعہ 9 کے تحت 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 10 کے تحت 10 سال قید اور 3 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 26-اے کے تحت 2 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ شامل تھا۔

دونوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیلیں دائر کرکے سزا معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔ 12 مئی کو سپریم کورٹ نے اسلامآباد ہائیکورٹ کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی، تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود فیصلہ نہ ہونے پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اسلامآباد ہائیکورٹ کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے سزا معطلی کی مخالفت کی اور کہا کہ اسلامآباد ہائیکورٹ نے استغاثہ کو آخری موقع دے کر 23 ستمبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ سپریم کورٹ نے تاہم ضمانت منظور کردی۔

ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ دونوں کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے کاغذات مکمل ہونے سے قبل ہی دوبارہ لے جایا گیا، جسے انہوں نے غیر قانونی اور قانونی طریقہ کار کے خلاف قرار دیا۔