اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق تیرہ اور راجگال کے متاثرین کے 37 نکاتی مطالبات تاحال مکمل طور پر حل نہ ہونے پر عوامی نیشنل پارٹی خیبر نے احتجاجی تحریک اور قانونی حکمت عملی کا اعلان کردیا۔
اے این پی خیبر کے صدر عبدالرازق آفریدی نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے رہائشیوں نے بدامنی کے دوران بھاری جانی اور مالی نقصانات برداشت کیے، تاہم ان کے مسائل کے حل اور حکومتی وعدوں پر عملی پیش رفت انتہائی محدود رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تیرہ متاثرین کی جانب سے حکومت کے سامنے پیش کیے گئے 37 نکاتی چارٹر کے متعدد مطالبات اب بھی زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کے نمائندہ جرگے کی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتوں کے بعد بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، جن میں 1,300 متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد بھی شامل ہے۔
اے این پی نے اعلان کیا کہ 18 ستمبر کو باڑہ چوک میں پُرامن احتجاج کیا جائے گا۔ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو وزیر اعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، بالاحصار قلعہ اور کور کمانڈر ہاؤس کے باہر بڑے دھرنے دیے جائیں گے۔
پارٹی نے متاثرین کے نقصانات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے خصوصی فارم بھی جاری کیے ہیں، جن میں جانی نقصان، مکانات، اراضی، فصلوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات شامل کی جائیں گی۔ یہ فارم اور درخواستیں 14 سے 16 ستمبر تک مقررہ کیمپوں میں جمع کرائی جائیں گی، جبکہ 17 ستمبر کو ملگری وکیلان کے ساتھ قانونی مشاورت ہوگی۔
عبدالرازق آفریدی نے کہا کہ یہ مہم حکومت گرانے یا سیاسی بلیک میلنگ کے لیے نہیں بلکہ متاثرین کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہے۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی 18 ستمبر کے احتجاج میں اپنے پلیٹ فارم اور جھنڈوں کے ساتھ شرکت کی دعوت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متاثرین کو زرعی زمینوں پر واپس جانے کی اجازت اور اعلان کردہ ریلیف پیکیج نہ دیا گیا تو 30 ستمبر سے قبل بڑے پُرامن دھرنے دیے جائیں گے۔ احتجاج اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جب تک واپسی کا باضابطہ نوٹیفکیشن یا فصلوں اور دیگر نقصانات کا مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
