From WhatsApp hacking to bank fraud, Pakistani citizens have lost Rs 8.32 billion.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے، جہاں گزشتہ تین برس کے دوران 2 لاکھ 27 ہزار 757 شہری سائبر فراڈ کا شکار ہوئے اور مجموعی طور پر 8 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم سے محروم ہوگئے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 83,080، 2025 میں 76,646 جبکہ اس کے بعد کے سال میں 68,031 افراد نے سائبر فراڈ کی شکایات درج کرائیں۔

حیران کن طور پر فراڈ کا شکار ہونے والوں میں موجودہ اور سابق ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کم از کم 8 پارلیمنٹیرینز سائبر فراڈ کا نشانہ بنے۔

سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے 4 لاکھ 90 ہزار روپے، سینیٹر فلک ناز چترالی سے 4 لاکھ 85 ہزار، سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے 4 لاکھ 3 ہزار 500 اور سینیٹر نیاز احمد سے 30 ہزار روپے فراڈ کے ذریعے ہتھیائے گئے۔

خیبرپختونخوا کی رکن اسمبلی شیلا بانو سے 3 لاکھ 70 ہزار 800 روپے جبکہ ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی سے 9 لاکھ 70 ہزار روپے کا فراڈ کیا گیا۔ ان چھ پارلیمنٹیرینز کا مجموعی نقصان 27 لاکھ 49 ہزار روپے بنتا ہے۔

این سی سی آئی اے نے ان میں سے صرف تین ارکان، فلک ناز چترالی، بلال احمد مندوخیل اور نیاز احمد کی رقم واپس دلائی ہے۔ مجموعی طور پر 9 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد رقم برآمد کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ اور وہاڑی سے رکن قومی اسمبلی سید ساجد مہدی بھی سائبر فراڈ کا شکار ہونے والوں میں شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین راجا خرم نواز نے بھی بتایا کہ انہیں باقاعدگی سے فراڈ پر مبنی کالز موصول ہوتی ہیں۔

این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق زیادہ تر کیسز میں واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کیے جاتے ہیں یا ملزمان خود کو بینک اور دیگر اداروں کا نمائندہ ظاہر کرکے شہریوں سے رقم حاصل کرتے ہیں۔ ہزاروں افراد روزانہ 2 سے 20 ہزار روپے تک سے محروم ہوتے ہیں، تاہم معمولی رقم ہونے کے باعث بہت سے متاثرین شکایت درج نہیں کراتے۔