Major opposition alignment, JUI-F hints at common platform against government

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سمیت اپوزیشن جماعتوں نے ملکی سیاسی صورتحال، امن و امان اور حکومتی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن پلیٹ فارم تشکیل دینے پر اصولی اتفاق کرلیا۔ جمعے کو ہونے والے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے قومی معاملات پر حکومت کے خلاف زیادہ مؤثر اور مشترکہ آواز اٹھانے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی۔

اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی رہنماؤں اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر مولانا عبدالغفور واسع بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ دو صوبے جنگ جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی رٹ کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور ہر شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کررہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرانے کے باوجود سکیورٹی آپریشنز کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے تاجر شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور پاکستان کی مغربی سرحد کی بندش سے خطے کی تجارت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے چین کا اعتماد متاثر کیا ہے اور ملک بتدریج عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہورہا ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس کے لیے نہ مناسب تیاری ہے اور نہ ہی ضروری بنیادی کام کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش پر انہوں نے کہا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ محمود اچکزئی نے خبردار کیا کہ سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا گیا اور ملکی وسائل پر قبضے کی کوششیں جاری رہیں تو وہ عالمی عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر قانون کی حکمرانی نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عمران خان کو پمز کے بجائے شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کے عدالتی معاملے پر بھی تنقید کی، جبکہ اسد قیصر اور سلمان اکرم راجا نے بھی حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے وہ اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد دوبارہ اجلاس کریں گی۔