اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی جائزے کے مطابق عدالتی حکم جیل میں قید سزا یافتہ شخص کو دستیاب قانونی سہولیات کے مقررہ دائرے سے آگے جاتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جیل حکام اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق عدالتی حکم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، بالخصوص عمران خان کے طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت نے قانون کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق حکومت مناسب ترمیم کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی تاکہ عمران خان کا معائنہ کسی سرکاری تیسرے درجے کے بڑے اسپتال میں کرایا جاسکے۔
وزیر قانون نے کہا کہ عدالتی ہدایات کے مطابق میڈیکل بورڈ میں دیگر بڑے طبی اداروں کے ماہرین اور اسپیشلسٹس کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے نجی اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے وسیع تر اثرات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں قیدی مختلف بیماریوں اور طبی پیچیدگیوں کا سامنا کررہے ہیں، اس لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس نوعیت کا حکم صرف عمران خان کے کیس تک محدود ہوگا یا پوری جیل آبادی پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق قانون میں طریقہ کار واضح ہے کہ پہلے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ قیدی کا علاج جیل کے اندر ہوسکتا ہے یا اسے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جیل سے باہر علاج ضروری ہو تو ہر کیس میں سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آئے کہ سرکاری اسپتال مطلوبہ علاج فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، نجی اسپتال منتقل کرنے کا انتظام نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی اور عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی اپنے قائد کے لیے این آر او یا کسی خفیہ سمجھوتے کی خواہاں ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرانے کے لیے پی ٹی آئی کی کوششیں اس کے سابقہ بیانیے سے ایک ’’طنزیہ یوٹرن‘‘ ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو فوری، مؤثر اور مکمل طبی سہولیات فراہم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے بعض سینئر رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو میرٹ پر مبنی قرار دیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے اس مؤقف کے مطابق ہے کہ سابق وزیراعظم سے متعلق قانونی معاملات کا فیصلہ عدالتوں ہی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے گی۔
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو میرٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے درست فورم سے رجوع کیا اور عدالت نے کیس کے میرٹ پر فیصلہ دیا، جس کا حکومت احترام کرتی ہے۔
