72,000 refugees invade Ceuta, EU announces tough measures against human traffickers

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں گزشتہ ہفتے تقریباً 72 ہزار غیر قانونی مہاجرین کی اچانک آمد کے بعد یورپی یونین نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے، بیرونی سرحدوں کی نگرانی مضبوط بنانے اور غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے نظام کو مؤثر بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے منگل کو ہنگامی اجلاس میں اس غیر معمولی صورتحال کا جائزہ لیا، جس کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے بحران دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔ سیوٹا اور میلیلا یورپی یونین کی وہ دو زمینی سرحدیں ہیں جو براہِ راست مراکش سے ملتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مہاجرین کی یہ بڑی لہر گزشتہ جمعرات کو شروع ہوئی، جبکہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 75 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ متعدد افراد سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کئی افراد ہجوم کے دباؤ میں کچلے جانے سے ہلاک ہوئے، جس نے پورے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

ہنگامی اجلاس کے بعد یورپی کمشنر برائے داخلہ میگنس برونر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس بڑے بحران کے پیچھے منظم انسانی اسمگلنگ کے گروہ اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات تھیں، جنہوں نے ہزاروں افراد کو یورپ پہنچنے کے لیے اکسایا۔

انہوں نے کہا کہ اسپین اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، اس لیے فی الحال مراکش کے ممکنہ کردار پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، تاہم انہوں نے غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کے عمل میں مراکش کے تعاون کو سراہا۔

وزرائے داخلہ نے اجلاس میں کئی اہم تجاویز پر اتفاق کیا، جن میں رکن ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کا بہتر تبادلہ، سوشل میڈیا کی نگرانی، انسانی اسمگلروں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں، بیرونی سرحدوں کی مزید مؤثر حفاظت اور غیر قانونی مہاجرین کی جلد واپسی کا نظام شامل ہے۔

یورپی کمشنر میگنس برونر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ یورپی یونین اور مراکش کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر بھی مذاکرات جاری ہیں، جس کا مقصد غیر قانونی ہجرت، سرحدی سلامتی اور دیگر مشترکہ معاملات میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔