اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے الگ الگ حملوں میں دو ڈی ایس پیز سمیت مجموعی طور پر 12 پولیس اہلکار شہید جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوگئے۔ مختلف علاقوں میں مزدوروں کے اغوا، سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد سکیورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کی اور فوری طور پر اضافی نفری بھی روانہ کی گئی، تاہم دہشت گردوں نے کمک پہنچنے والے دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس سے ایک بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا۔
آئی جی پولیس کے مطابق طویل فائرنگ کے تبادلے میں 15 دہشت گرد مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے، تاہم ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 پولیس اہلکار شہید جبکہ 28 اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا حوصلہ بلند ہے اور صوبے کے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسی رات پشاور کے ادیزئی علاقے میں واقع پولیس چوکی پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا، تاہم پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے۔ ضلع بارکھان کے علاقے کھٹہ چوک میں گشت کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیس گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی راکھنی مراد بگٹی شہید ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس، ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ادھر ضلع کیچ کے علاقے کلاتک میں مسلح افراد نے سات مزدوروں کو لے جانے والی گاڑی روک کر صوابی سے تعلق رکھنے والے مزدور جاوید خان کو قتل کر دیا جبکہ چھ مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ اغوا ہونے والوں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبرپختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ اسی واقعے کے دوران فائرنگ کی زد میں آ کر مقامی شہری عبدالرزاق بھی جاں بحق ہوگئے۔
دریں اثنا ضلع چاغی میں کوئٹہ اور تفتان کو ملانے والی این-40 شاہراہ پر مسلح افراد نے شاہراہ بند کر کے فائرنگ کی، پانچ ٹریلرز اور دو گیس باؤزرز کو آگ لگا دی جبکہ ایک ٹرک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ادھر ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر مملکت نے پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
