Australia's historic social media law fails first test, age verification system under question

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوز کی خبر کے مطابق  آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر عائد تاریخی پابندی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ قانون کے نفاذ کے باوجود عمر کی تصدیق کا نظام اپنی پہلی ہی آزمائش میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نئے صارفین سے عمر کا کوئی عملی ثبوت طلب نہیں کر رہے، جس کے باعث کم عمر افراد کے لیے اکاؤنٹ بنانا بدستور ممکن ہے۔

دسمبر 2025 سے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب سمیت تمام بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر افراد کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی پلیٹ فارم عمر کی تصدیق کے مؤثر انتظامات نہ کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عمر کی تصدیق کے نظام کا جائزہ لینے والی کمپنی نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ قانون نافذ ہونے کے بعد مختلف پلیٹ فارمز پر بنائے گئے 50 آزمائشی اکاؤنٹس میں سے کسی ایک صارف سے بھی عمر ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویز یا تصدیقی عمل نہیں مانگا گیا، حالانکہ تمام اکاؤنٹس میں عمر 16 سال درج کی گئی تھی۔

تحقیق کے مطابق گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد آسٹریلوی شہریوں پر عمر کی جانچ کے سافٹ ویئر کا تجربہ بھی کیا گیا تھا، لیکن موجودہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں صارف کی آن لائن سرگرمی کی بنیاد پر عمر کا اندازہ لگانے والا نظام کم عمر صارفین کی درست نشاندہی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر اینڈریو ہیمنڈ نے کہا کہ اگر حکومت عمر کی تصدیق کو لازمی قرار دے چکی ہے تو نئے صارف کو اکاؤنٹ بناتے وقت اپنی عمر ثابت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، مگر ہمارے تمام تجربات میں ایسا ایک بار بھی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق آزمائشی اکاؤنٹس اب بھی فعال ہیں اور انہیں پابندی کے دائرے میں آنے والے 10 میں سے 9 بڑے پلیٹ فارمز پر کامیابی سے رجسٹر کیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس پر 16 سالہ صارف ظاہر کرنے والے ایک آزمائشی اکاؤنٹ کو فحش مواد بھی دکھایا گیا، جس نے آن لائن بچوں کے تحفظ سے متعلق مزید سوالات کھڑے کر دیے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی صارف اپنی عمر 16 سال سے کم درج کرے تو بیشتر پلیٹ فارمز اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دیتے، تاہم صرف آسٹریلیا کے لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم کک نے عمر کا باقاعدہ ثبوت فراہم کیے بغیر اکاؤنٹ بنانے سے انکار کیا۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی حکومت پہلے ہی سوشل میڈیا کمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔

اگرچہ حکومتی دعویٰ تھا کہ قانون نافذ ہونے کے پہلے ہی مہینے میں تقریباً 47 لاکھ مشتبہ کم عمر اکاؤنٹس ختم کیے گئے، لیکن نئی تحقیق نے اس دعوے پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔