اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹریبیون میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور پشاور میں کرایوں میں مسلسل اضافہ، بھاری سیکیورٹی ڈپازٹس، اضافی اخراجات اور کمزور قانونی تحفظ نے لاکھوں کرایہ دار خاندانوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، تعمیراتی لاگت، جائیدادوں کی بڑھتی قیمتیں، شہری آبادی میں اضافہ اور سستے گھروں کی کمی کے باعث متوسط طبقے کے لیے مناسب رہائش کا حصول اور اسے برقرار رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی وقاص کے مطابق تین سال قبل ان کے فلیٹ کا ماہانہ کرایہ 85 ہزار روپے تھا جو سالانہ اضافے کے بعد اب ایک لاکھ 12 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال معاہدے کی تجدید کے وقت کرایہ بڑھانا معمول بن چکا ہے، جبکہ گھر تبدیل کرنا بھی آسان نہیں کیونکہ گزشتہ مرتبہ مکان بدلنے پر سیکیورٹی ڈپازٹ، ایڈوانس کرایہ، بروکریج، سامان اور اے سی کی منتقلی سمیت تقریباً 12 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔
صورتحال صرف کراچی تک محدود نہیں۔ مارچ 2026 کے پراپرٹی مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق ڈی ایچ اے لاہور میں اوسط ماہانہ کرایہ تقریباً 2 لاکھ 81 ہزار روپے، گلبرگ میں 6 لاکھ روپے سے زائد، جوہر ٹاؤن میں 2 لاکھ 24 ہزار روپے جبکہ بحریہ ٹاؤن میں ایک لاکھ 65 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کئی علاقوں میں ایک کنال گھروں کا کرایہ 3 سے 4 لاکھ روپے جبکہ پانچ مرلہ گھروں کا کرایہ بھی ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ بڑھتے اخراجات کے باعث متعدد خاندان نسبتاً سستے علاقوں جیسے رائیونڈ روڈ، ایل ڈی اے ایونیو، جوبلی ٹاؤن اور بحریہ آرچرڈ منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔
کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ اصل بوجھ صرف ماہانہ کرایہ نہیں بلکہ مینٹیننس، پانی، پارکنگ، گیس اور دیگر سروس چارجز بھی ہیں۔ کراچی کے جناح ایونیو میں رہنے والی ایک خاتون کے مطابق ان کے فلیٹ کا کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، لیکن مینٹیننس، پارکنگ اور دیگر بلوں کے بعد ماہانہ اخراجات تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ دوسری جانب کئی عمارتوں میں پانی اور گیس کے بل اصل استعمال کے بجائے یکساں بنیادوں پر وصول کیے جاتے ہیں، جس پر کرایہ دار اعتراض کرتے ہیں۔
کرایہ داروں کے مطابق زیادہ تر مکان مالکان دو سے چار ماہ کا سیکیورٹی ڈپازٹ اور ایک ماہ کا بروکریج بھی وصول کرتے ہیں، جبکہ مکان خالی کرنے کے وقت رنگ و روغن، صفائی یا مرمت کے نام پر ڈپازٹ سے کٹوتیاں معمول بن چکی ہیں۔ پشاور میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا رینٹڈ بلڈنگز ایکٹ 2014 کے باوجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور زیادہ تر قانونی ذمہ داریاں صرف کرایہ داروں پر عائد ہوتی ہیں۔
دوسری جانب مکان مالکان کا مؤقف ہے کہ کرایوں میں اضافہ مہنگائی، جائیداد کی دیکھ بھال کے اخراجات اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق کیا جاتا ہے، جبکہ سیکیورٹی ڈپازٹ ممکنہ نقصانات اور کرایہ نہ ملنے کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم قانونی اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرایہ داری کے نظام کو شفاف بنانے، کرایوں میں اضافے کے واضح اصول طے کرنے، سیکیورٹی ڈپازٹس کو ریگولیٹ کرنے اور سستی رہائش کے منصوبوں کو فروغ دینے کی فوری ضرورت ہے تاکہ کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
