The UN has declared the actions of the Afghan morality police a violation of fundamental rights.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 10 آزاد ماہرین نے افغانستان کے شہر ہرات میں خواتین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لباس سے متعلق پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہرات میں وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے ہفتے سے ایسی خواتین کی گرفتاریاں شروع کیں جو چادر یا برقع پہننے کے سرکاری ضابطے پر عمل کرتی نظر نہیں آئیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ لباس کی بنیاد پر خواتین کو حراست میں لینا بنیادی انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور صنفی امتیاز سے تحفظ کے اصولوں کے منافی ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کو ان اقدامات کے خلاف ہونے والا احتجاج طاقت کے ذریعے منتشر کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، تاہم افغان حکام نے ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی ہے۔
دریں اثنا، بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہرات ریجنل ہسپتال میں خدمات انجام دینے والی ایک خاتون طبی کارکن کو لباس ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر دو روز تک حراست میں رکھا گیا، جسے بعد ازاں تحریری یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا گیا۔
ہرات میں مقامی حکام نے حال ہی میں نئے ضوابط کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت خواتین کے لیے مکمل پردے، میک اپ سے گریز، بال چھپانے اور موزے پہننے جیسی شرائط شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں حراست یا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ خواتین کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام یقینی بنایا جائے اور پرامن شہریوں کے خلاف سخت اقدامات سے گریز کیا جائے۔





