Former caretaker Prime Minister of Pakistan's stance Relations with Kabul should be based on respect and sovereignty
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان انٹرنیشل کی رپورٹ کے مطابق سابق نگران وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک دیرینہ پاکستان مخالف ذہنیت اور بیانیہ موجود رہا ہے جو ان کے مطابق سابق افغان رہنما سردار محمد داؤد کے دور سے مختلف حکومتوں میں تسلسل کے ساتھ دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کا حل صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور وہاں کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انوارالحق کاکڑ نے افغان حکومتوں کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادوار میں اس سرحد کو قبول نہ کرنے کا رویہ سامنے آتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر افغانستان موجودہ حالات میں اپنی جغرافیائی حدود اور ریاستی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کی جدید تاریخ کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اصل کامیابی صرف جغرافیے کا تحفظ نہیں بلکہ ایک مؤثر ریاستی نظام کا قیام بھی ہے، جس کے ذریعے اندرونی استحکام پیدا کیا جا سکے اور عوام کو بہتر حکمرانی، امن اور معاشی بہتری فراہم کی جا سکے۔
سابق نگران وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں بعض اوقات ایسے سیاسی تصورات یا وسیع تر علاقائی خواب بھی دیکھے جاتے ہیں جو مشرق، مغرب یا شمال کی طرف توسیع سے متعلق ہوتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایسے خیالات ریاستی وسائل اور توجہ کو اصل ترقیاتی ضروریات سے ہٹا دیتے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان خود کو ایسی کسی قوت کے طور پر نہیں دیکھتا جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور باہمی تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے احترام، عدم مداخلت اور تعاون کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔



