Dispute over Mari Energies' gas sale, formal complaint sent to Prime Minister
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ماری انرجیز لمیٹڈ کی جانب سے سپن وام گیس فیلڈ کی 35 فیصد گیس تیسرے فریق کو فروخت کرنے کے عمل پر ریگولیٹری تنازع سامنے آ گیا ہے، جس کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف اور متعلقہ حکام کو باضابطہ شکایت ارسال کر دی گئی ہے۔
صنعتی شعبے کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم آرگنائزیشن فار ایڈوانسمنٹ اینڈ سیف گارڈ آف انڈسٹریل سیکٹر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گیس کی فروخت کے لیے جاری کیا گیا اشتہار کونسل آف کامن انٹرسٹس کے منظور شدہ فریم ورک اور اوگرا قوانین سے متصادم ہے۔
شکایت کے مطابق سی سی آئی کے منظور کردہ طریقہ کار کے تحت تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں اپنی 35 فیصد گیس صرف ایسے تیسرے فریق کو فروخت کر سکتی ہیں جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا باقاعدہ لائسنس رکھتا ہو اور مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب کیا جائے۔
او ایس آئی ایس کا الزام ہے کہ ماری انرجیز کے اشتہار میں اوگرا لائسنس کی لازمی شرط کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ صرف ٹیکس حکام کے ساتھ رجسٹریشن اور ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شمولیت کو اہلیت قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قانونی لائسنسنگ نظام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے ریگولیٹری نگرانی متاثر ہونے، مسابقتی ماحول خراب ہونے اور حفاظتی، تکنیکی و مالیاتی خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو تنظیم آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اور بولی کے عمل کو روکنے کی درخواست دائر کرے گی۔
او ایس آئی ایس نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ اشتہار کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کیا جائے، بولی کا عمل فوری طور پر معطل کیا جائے اور نئے ٹینڈر دستاویزات جاری کیے جائیں جن میں صرف اوگرا لائسنس رکھنے والے اداروں کو شرکت کی اجازت ہو۔
شکایت کی نقول آرمی چیف، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم، چیئرمین اوگرا اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جبکہ اوگرا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں گیس کی فروخت کے تمام معاملات میں لائسنسنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔



