Pakistan's Human Capital Investing in Parents and Early Childhood is the Need of the Hour
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین بچے کے پہلے استاد ہیں تو والدین اور کم عمر بچوں کی فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے اہم اقدامات میں شمار ہو سکتی ہے۔
سماجی شعبے اور تعلیم سے وابستہ ماہر احسن جمیل نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ بچوں کی شخصیت، سیکھنے کی صلاحیت، جذباتی استحکام اور سماجی رویوں کی بنیاد زندگی کے ابتدائی برسوں میں گھر اور خاندان کے ماحول میں رکھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق انسانی ترقی کا عمل اسکول یا ملازمت سے نہیں بلکہ پیدائش سے پہلے اور زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں میں شروع ہو جاتا ہے۔
یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت اور ہارورڈ سینٹر آن دی ڈیولپنگ چائلڈ کی تحقیق کے مطابق ابتدائی بچپن دماغی نشوونما کا انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے، جہاں ہر سیکنڈ میں 10 لاکھ سے زائد اعصابی رابطے تشکیل پاتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے اعداد و شمار تشویش کا باعث ہیں۔ یونیسیف کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد پاکستانی بچے غذائی کمی کے باعث نشوونما کی رکاوٹ کا شکار ہیں، جبکہ لاکھوں بچے مناسب ذہنی، لسانی اور سماجی صلاحیتوں کے بغیر اسکول میں داخل ہوتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت ایشیا کے کم ترین ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری چائلڈ کیئر سہولیات خواتین کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جس سے گھریلو آمدنی اور قومی معیشت دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ، عالمی بینک اور بین الاقوامی محنت تنظیم کے مطابق ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور چائلڈ کیئر پر سرمایہ کاری تین بڑے فوائد فراہم کرتی ہے: خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت، نگہداشت کے شعبے میں روزگار کے مواقع، اور بچوں کی بہتر تعلیم، صحت اور مستقبل کی آمدن۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چھ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ ہے، جو ملکی آبادی کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی بچے مستقبل کے اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، کاروباری شخصیات اور قومی رہنما بنیں گے۔
تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ چائلڈ کیئر مراکز، نگہداشت کرنے والوں کی تربیت، نجی شعبے کے تعاون سے ڈے کیئر مراکز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے محدود وسائل میں بھی مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔



