Islamabad Shuttle Service Scandal: Overcharging and Illegal Security Revealed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے حساس ریڈ زون میں ڈپلومیٹک شٹل سروس کے انتظامات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر یہ سروس سی ڈی اے کے ایک ڈرائیور کی نگرانی میں چلائی جا رہی تھی اور نجی سکیورٹی اہلکار بھی تعینات تھے۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر سیدہ انعم فاطمہ نے شکایات موصول ہونے پر شٹل سروس کے مقام کا دورہ کیا اور فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ دورے کے دوران ایک شخص کو زائد کرایہ وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے سیکرٹریٹ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
معائنے کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ شٹل سروس کے مقام پر نجی سکیورٹی گارڈز موجود تھے، حالانکہ یہ سہولت اب باضابطہ طور پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ہے۔ حکام نے فوری طور پر نجی گارڈز ہٹانے اور ان کی جگہ پولیس اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق شٹل سروس کے قائم مقام سپروائزر اعجاز قریشی، جو باضابطہ طور پر ڈی ایم اے میں ڈرائیور کے طور پر تعینات ہیں، کو مبینہ بے ضابطگیوں پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ حساس سروس میں نگران کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
مزید اطلاعات کے مطابق نجی سکیورٹی اہلکار کئی برسوں سے اس مقام پر موجود تھے اور انتظامی تبدیلی کے باوجود وہ تعینات رہے۔ ان میں سے بعض کے خلاف یہ بھی شکایات سامنے آئیں کہ وہ مبینہ طور پر فیس کے عوض بغیر اپائنٹمنٹ افراد کو سفارتخانوں تک رسائی دلاتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جب مبینہ طور پر درجنوں افراد بغیر اپائنٹمنٹ کے سفارتخانے پہنچ گئے تھے۔ بعد ازاں اس معاملے پر احتجاج بھی ہوا جسے پولیس نے منتشر کیا۔
ذرائع کے مطابق اس سروس میں بے ضابطگیوں کی شکایات پہلے بھی اعلیٰ حکام تک پہنچتی رہی ہیں، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔




