Quetta shuttle train suicide blast, 14 killed, 20 injured
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب شٹل ٹرین کو خودکش دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔ بلوچستان حکومت کے مطابق دھماکا اتوار کی صبح اس وقت ہوا جب ٹرین کوئٹہ کینٹ سے ریلوے اسٹیشن کی جانب جا رہی تھی۔
صوبائی حکومت نے واقعے کو بزدلانہ دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملے کا مقصد بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد میں ایف سی کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ بیشتر متاثرین عام شہری، مسافر، راہگیر، خواتین اور بچے ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی جاں بحق ہوئے، جس کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث انجن سمیت تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو بوگیاں الٹ گئیں۔ کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جسے ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیموں نے قابو میں کیا۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس، سی ٹی ڈی، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کو فوری طلب کر لیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کوئٹہ پہنچ کر سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور زخمیوں کی بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں بڑھتے دہشتگردی کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے



