iran-us-tension-pakistans-diplomatic-efforts-intensify-important-talks-in-tehran
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں ایران امریکا کشیدگی، خطے کی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات رات گئے تک جاری رہی، جس میں دونوں رہنماؤں نے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے سیاسی حل کیلئے مختلف سفارتی اقدامات کا جائزہ لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے تھے، جہاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہی ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام نے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر مختلف عسکری اور انتظامی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی کارروائی کا ردعمل خطے سے باہر تک جا سکتا ہے۔
ادھر پاکستان، ترکیہ اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متحرک سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، قطری قیادت اور پاکستانی ثالثی ٹیموں سے بھی رابطے کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم اب تک مستقل معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کئی اہم معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات گہرے اور اہم ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے




