Lakki Marwat blast 7 people including two traffic policemen martyred, 23 injured
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سری نورنگ میں منگل کے روز ہونے والے دھماکے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 23 افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
بنوں کے ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا موٹرسائیکل میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو 1122، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ نے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے اور سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن بھی جاری ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے ٹریفک اہلکاروں کی شناخت عادل جان اور راحت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ لاشوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ متعدد زخمیوں کو تشویشناک حالت میں بنوں کے اسپتالوں میں ریفر کیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان قدرت اللہ خان کے مطابق دھماکے کے وقت ٹریفک اہلکار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے معمول کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکا ہوگیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ نے حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے خصوصاً جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ گورنر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔




